اسکی عمر صرف 27 سال تھی اور اب تک اپنی زندگی کے 15 بہترین سال امریکن فلم انڈسٹری کو سیکھنے اور اداکاری میں صرف کر چکی تھی ۔ امریکہ میں 1970 میں فلم میں کنگ کونگ کے آڈیشن چل رہے تھے ۔ اس وقت کے مشہوراٹالین امریکن فلم پروڈیوسر Dino De Laurentis کے بیٹے نے اداکارہ کو آڈیشن کے لیے بلوایا ۔
جب وہ سٹوڈیو پہنچی تو پروڈیوسر نے پہلی نظر میں اسے ریجیکٹ کردیا اور اٹالین زبان میں اپنے بیٹے سے یوں مخاطب ہوا ” کس بد صورت کو میرے پاس اٹھا لائے ہو۔ یہ اس کردار کے ہر گز لائق نہیں” پروڈیوسر تب حیران ہوا جب اداکارہ نے لاطینی زبان میں جواب دیا” آپکے مطابق میں بد صورت ہوں اور اس کردار کے ہر گز لائق نہیں ” ۔ یہ صرف تمہارا خیال ہے ۔ میں ایک اداکارہ ہوں اور یہ انڈسٹری ایک سمندر ہے اور تم اس میں صرف ایک قطرہ ہو۔ میں اس سمندر میں غوطہ زن ہوں گی اپنے ٹیلنٹ کے لیے ہمدرد اور قدردان تلاش کروں گی میرا یقین ہے ایک دن مجھے مل جائیں گے ۔
پروڈیوسر کے جملے اسکے لیے بہت کربناک تھے ۔ اسکے پاس صرف دو راستے تھے اول وہ اسکی بات پر دکھی ہوتی اپنی بدنصیبی کا رونا روتی اور مان لیتی کہ وہ بد صورت ہے اور کبھی صف اول کی اداکارہ نہیں بن سکتی یا دوسرا راستہ Self Assertion کا تھا محنت کرکے خود کومنواتی۔ پہلا کام بڑا آسان جبکہ دوسرا راستہ انتہائی دشوار تھا۔ محنت کے ساتھ خود کو ثابت کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے ۔ اس نے مشکل راستہ اختیار کیا ۔
پھر وہ امریکن فلم انڈسٹری نے یہ نظارہ دیکھا کہ وہ بد صورت اداکارہ امریکن فلم انڈسٹری میں لیجنڈ کے طور پر ابھری ۔ اس لیجنڈ اداکارہ کو میٹریل سٹریپ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ آپ حیران ہوں گے کہ وہی ریجیکٹڈ اور بد صورت اداکارہ 21 آسکر نامزدگیاں حاصل کر چکی ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ امریکہ کا سب سے اعلی سول اعزازات Presidential Medal of Honor اور گولڈن گلوب فار لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہے ۔
قارئین ہمارے اردگرد 97 فیصد لوگ صرف یہ بتانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں کہ ” تم یہ کبھی نہیں کر سکتے”۔ آپکی حوصلہ افزائی کے لیے آپکو 3 فیصد لوگ بھی مشکل سے ملیں گے۔ حوصلہ افزائی کرنے والوں کا کال پڑا ہوا ہے ۔ ہماری زندگی میں ان گنت مرتبہ ہم سب کو کسی نا کسی طرح ریجیکٹ کیا جاتا ہے ۔ یہ لمحہ واقع ہی ناقابل برداشت ہوتا ہے ۔ کیونکہ ریجیکشن سے عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور ہم سب انسان یہ بات دل پر لے لیتے ہیں ۔
بطور کوچ، ٹرینر اور این ایل پی میں مشورہ دیتا ہوں کہ ” Face the rejection with Grace”. یاد رکھیں آپکو ریجیکٹ کرنے والےآپکے بارے میں صرف اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور یہ ضروری نہیں کہ انکی رائے درست ہو اور آپ پر فرض یا قرض نہیں کہ آپ انکی رائے کو اپنے اوپر لاگو کر لیں۔ میریل کی طر ح Let the barking dogs bark. آپ منزل کا درست تعین کرکے اپنی دھن میں مگن آگے بڑھتے جائیں ۔ کوئی شک ہی نہیں کہ آپ جلد یا بدیر کامیاب و کامران
لوٹیں گے ۔ دوسری طرف ریجیکٹ کرنے والوں کی بات مان کر مایوس ہو کر اپنے مقصد سے ہٹ کر ناکامی کو قبول کرلیں یہ انسان کی توہین ہے۔ کیونکہ جب مان لو گے تو ہار جاؤ گے اور ٹھان لو گے تو جیت جاؤ گے ۔