آپ پیسہ کیوں کماتے ہیں؟ یقیناؑ آپکا جواب سادہ سا ہو گا کہ ضروریات زندگی اور خواہشات کے لیے کماتے ہیں تاکہ ہماری زندگی میں سکون، خوشی اور ترقی آئے۔ یہاں ایک اور سوال ابھرتا ہے کہ کیا سب ضرورتیں اور خواہشیں پوری ہو کر ہمارے مسائل کم ہو رہے ہیں ؟ کیا جس سکون، ترقی اور خوشحالی کے ہم اتنی تگ و دو کرتے ہیں ہمیں میسر ہے؟ اگر تو آپ کا جواب ہاں میں تو مبارک ہو۔ اگر یہ ناں میں ہے یا اسکا آپکے پاس جواب نہیں تو پھر لمحہ فکریہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ہماری ساری محنت و مشقت، وقت اور خواب کیوں بیکار جا رہے ہیں ؟ اسکی بڑی وجہ پیسہ اور زندگی میں واضح فرق نا کر پانا ہے۔ ہم پیسے کی چاہ میں زندگی کی چاشنی کو بھول جاتے ہیں جسکی سزا ہمیں بے سکونی ، بے چینی اور ترقی کی بجائے تنزلی کی صورت میں ملتی ہے۔ پیسہ کما لیتے ہیں لیکن خرچ اور بچت میں ساری زندگی جھولا بنے رہتے ہیں۔ آپکے ذہن میں یہ بات ضرور ابھر رہی ہو گی کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
چلیں میں آپکی اس پریشانی کا حل کیے دیتا ہوں۔ اور درست فیصلہ کرنے میں آپکی مدد کرتا ہوں ۔ بس آپ سے گزارش ہے کہ فیصلہ درست کرنا ڈنڈی نا مارنا ورنہ ذندگی کے ڈنڈے مقدر ٹھہریں گے۔
میں آپکے ساتھ بڑی شاندار کتاب آپکی دولت یا آپکی زندگی سے پریکٹیکل وزڈم شئیر کرنے جا رہا ہوں جو آپکی خرچ اور بچت کے فن کو چار چاند لگا سکتی ہے۔ کتاب کے مصنف وکی رابنز اور جوئے ڈومنگوز نے خرچ اور بچت کو نہایت سادہ اور عملی انداز میں بیان کیا ہے۔ ہم نے اسے اور سادہ اور مختصر انداز میں آپکے لیے کالم کی شکل دی ہے ۔ میرا یقین ہے یہ آپکی فنانشل مسائل کو حل کرکے زندگی میں سکون، خوشی اور ترقی کا باعث بنے گی۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ خود سے سوال کریں کہ کیا آپ پیسے کے لیے کام کر رہے ہیں یا پھر زندگی کو خوشگوار اور پر سکون بنانے کے لیے؟ آپکا جو بھی جواب ہے درست ہے اسے لکھ لیں۔ سر یاد رکھیں آپکی کمائی آپکی زندگی میں سے انرجی، وقت، سکلز اور خواب کا بدلہ ہے۔ یہ بالکل تجارت جیسا ہے جیسے تجارت میں میں غلط فیصلے نقصان دیتے ہیں اسی طرح کمائی کے غلط فیصلے کی بھی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جو کہ آپکی قیمتی انرجی، سکون، خوشی، وقت اور سکلز ہوتی ہیں۔
اس تجارت میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے میں آپکو 10 ٹپس کا پریکٹیکل پروگرام دینے والا ہوں ۔ عمل کریں اور اپنے مال معاملات میں کامیابی حاصل کریں۔
۔1. ماضی کے ساتھ جھگڑنا بند کردیں۔ زیادہ تر لوگ ماضی کو کوستے رہتے ہیں۔ اور کاش اور اگر انکی زندگی کھا جاتے ہیں۔ آپ آج بیٹھیں ماضی کے ساتھ اپنا حساب چکتا کریں اور آگے بڑھ جائیں۔ غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ نا دہرانے کا وعدہ کرکے توبہ تائب ہو جائیں۔
۔2- ایک ایک پائی کا حساب لیں۔ اپنی خرچ کرنے کی عادات پر غور کریں خود کا محاسبہ کریں اور کود سے تلخ سوالات کریں۔ بلکہ خود کو لگام ڈالیں اور اپنے روز مرہ خرچ کو کنٹرول کریں۔
3۔ جاب یا بزنس کی قیمت چیک کریں۔ ہماری کمائی جاب یا بزنس کا ہی نتیجہ ہوتی ہے اور ہر جاب یا بزنس کی ایک قیمت ہم ادا کرتے ہیں جو کہ ہماری انرجی، وقت، سکلز اور خواب کی صورت میں ہم ادا کرتے ہیں۔ آپ حساب کریں کہیں آپ خسارے میں تو نہیں۔ آپ جتنی محنت کر رہے ہیں، جتنا وقت دے رہے ہیں، جتنی سکلز اور انرجی صرف کر رہے ہیں کیا آپ اس کے برابر یا اس سے بہتر کما رہے ہیں؟
4۔ اقدار کے مطابق خرچ کریں۔ انسان خرچ کرکے بے چین اس لیے ہوتا ہے کہ کیوں اسے محسوس یہ ہوتا ہے کہ اسکا پیسہ ضائع ہو گیا ہے۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب پیسہ اسکی زاتی یا معاشرتی ویلیوز کے خلاف خرچ ہو جائے۔ ویلیوز کے مطابق خرچ آپکی انویسٹمینٹ بن جاتا ہے اسکے علاوہ سب بوجھ اور خسارہ رہ جاتا ہے۔