زیادہ تر لوگ جاب کیوں چھوڑجاتے ہیں؟
مائرہ ایک اچھی کمپنی میں سیلز مین کی جاب کرتی تھی۔وہ ایک اچھی سیل پرسن ثابت ہوئی اپنا ٹارگٹ مکمل کر لیتی اسے سیلری کمیشن کے ساتھ بونس پرکشش مل رہے تھے گھر کا سارا سسٹم بڑا اچھا چل رہا تھا۔ گھر والے خوش تھے کہ شکر ہے فاقوں سے جان چھوٹ گئی اور جلد ہی مائرہ کی شادی کا بھی بندوبست ہو جائے گا۔ پھر وہ اچانک سے بیمار رہنے لگی اور دن بدن اس کی طبیعت بوجھل ہوتی گئی وہ کام پر جاتی مگر ٓافس اورفیلڈ ورک میں بے جان سی رہتی اسے اس کمپنی میں کام کرتے ہوئے تین ماہ ہو چکے تھے۔ایک دن تو وہ اس قدر نڈھال ہو گئی کہ گھر آتے ہی کپڑے تبدیل کیے بغیر جوتوں سمیت بیڈ پر گر کر بے ہوش ہوگئی۔ سارا گھر پریشان ہو گیا کیونکہ وہ گھر میں واحد ارننگ ہینڈ (Earning Hand)تھی۔ باپ بیمار تھا ماں گھر کے کام کاج سے فرصت کے بعد کپڑے سلائی کر کے کچھ پیسے بنا لیتی تھی۔مائرہ کا چھوٹا بھائی میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا جو کہ گھر کے پاس ہی ایک اکیڈمی میں پڑھنے گیا تھا ا سے ایمرجنسی میں بلایامحلہ والوں نے گاڑی مہیا کردی اور باپ بیٹا بے ہوش مائرہ کو قریبی ہسپتال لے گئے ہسپتال میں جا کر ٹیسٹ کروائے لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ ٹیسٹ نارمل تھے لیکن وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔ڈاکٹر منذر نے دانشمندی سے کونسلنگ ڈیپارٹمنٹ میں سے سئنئیر سائیکالوجسٹ مس شازیہ کو بلوایا اور اس کے ہوش میں آنے پر اسے مس شازیہ کے حوالے کر دیا۔ مس شازیہ نے اسکی ڈریسنگ سے اندازہ لگایا کہ وہ کہیں جاب کرتی ہے اور اسکی جاب کے بارے میں پوچھا کہ وہاں اس کے ساتھ کیساسلوک ہوتا ہے۔جاب کیسی ہے اور وہ کیا کرتی ہے۔مائرہ نے بتایا سب بہت اچھے ہیں مگر میری جاب سیلز مین کی ہے اور مجھے لوگوں کووہ چیزیں بھی بیچنا پڑتی ہیں جن کو ان چیزوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔یہ بات مجھے مسلسل اندر سے کھائے جا تی ہے میں سب آسائشتوں کے باوجود مجبوراََ یہ جاب کر رہی ہوں۔
مس شازیہ سار ا معاملہ سمجھ گئی اور یہ پوائنٹ نوٹ کر لیا اور ویلیو کلیری فیکیشن ایکسرسائز شروع کر دی (ویلیو کلیریفیکیشن ایکسرسائز کسی پرسن، اسکی پرسنل ویلیوز اور کام میں مطابقت Match/Mis-Match چیک کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔)جب یہ ایکسرسائز مکمل ہوئی تو پتہ چلا کہ مائرہ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کو جرم سمجھتی تھی اور یہ احساس جرم آخری حد چھو گیا جس کی وجہ سے اسے انرجی کی کمیLow Energy) Syndrome (ہو
گیا اور بالآخر وہ ہسپتال کے بیڈ پر مس شازیہ کے سامنے موجود تھی۔ مائرہ نے مس شازیہ سے پوچھا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ مس شازیہ جو کہ بہت سمجھدار خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ کونسلنگ ایکسپرٹ بھی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا اگلے تین ماہ کے لیے آپ کے پاس کچن چلانے کے لیے پیسے ہیں؟مائرہ نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا کہ ڈیڑھ سے دو ماہ تو جیسے تیسے گزارہ کیا جا سکتا ہے۔ مس شازیہ نے کہا بس مسئلہ حل ہو گیا۔یہ جاب تمہارے ویلیو سسٹم سے Matchنہیں کرتی ا ٓپ کوئی نئی جاب تلاش کر لو۔وہ شائد اسی حوصلے کا انتظار کر رہی تھی۔اور وہ مسئلہ مس شازیہ نے حل کر دیا۔مائرہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کل ہی باس سے بات کرکے Resign لکھ دے گی۔
گھر ا ٓکر اس نے والدین سے مشورہ کیا جوکہ اس کی بیماری کی وجہ سے پہلے ہی پریشان تھے ،انہوں نے کہا :”بیٹی ہمیں آپ کی صحت اور زندگی عزیز ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم روکھی سوکھی پر گز ارہ کرکے بھی آپ کی آسانی لیے دعا کریں گے”۔
اسکا حوصلہ مزید بڑھ گیا اگلے دن وہ آفس گئی اور اپنے باس سے ساری بات کھل کر کہہ دی اور باس کے سامنے Resign رکھ دیا ۔باس ا فضل صاحب نہایت شریف النفس تجربہ کار بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ درد دل رکھنے والے انسان بھی تھے۔پہلے تو وہ مائرہ کے اچانک استعفٰی پر حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی پرفارمنس تو بہت اچھی ہے۔ سیلری کم ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے بتاؤ میں حل کر دیتا ہوں۔
مائرہ نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اصل حقیقت بیان کر دی افضل صاحب اسکی کی بات سن کر متاثر ہوئے اور استعفٰی قبول کرنےکے ساتھ ساتھ اس سے پوچھا کہ آپ کس قسم کی جاب کرنا پسند کریں گی مائرہ نے بتا دیا اور افضل صاحب نے اپنے ایک دوست کا ویزٹنگ کارڈ دیا جسے ایک پرسنل لیڈی اسسٹنٹ کی ضرورت تھی وہ اگلے ہی دن افضل صاحب کے دوست کی کمپنی میں گئی اور اسی دن مائرہ کو جاب مل گئی۔
اب مائرہ بہت دلجمعی اور انرجی سے اپنا کام کر رہی تھی۔
وہ ایک دن میں شازیہ کے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گئی اور ان سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میری جاب میرے لیے ٹھیک نہیں ہے مس شازیہ نے جواب دیا کہ آپ کی ویلیو اکثر سائز سے۔ مائرہ نے مس شازیہ کا شکریہ ادا کیا۔ اور اب وہ صحت مند، خوش اور جاب سے مطمئن اپنا گھر چلا رہی ہے اور اسکے والدین اسکی شادی کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
قارئین!
دنیا بھر میں 49% ورکرزاپنی مرضی کے خلاف کام کرنے کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں اور% 27 ورکرز جاب چھوڑ جاتے ہیں اور دنیا میں 22% ورکرز اپنے کیریئر کا چناؤ نہیں کر پاتے اورصرف 2% ورکرز اپنی Dream Job حاصل کر پاتے ہیں۔اور لیڈر بن جاتے ہیں۔
اس دنیا میں پسند کی ہر چیز ملنا تو بہت مشکل ہے جیسے "Wishes Don’t come true in this life”.David Daiches لیکن اپنی ویلیوز کو پہچان کر کیریئر کا انتخاب کرنا آسان بھی ہے اور ہمارے اختیار میں بھی ہے۔بطور ٹرینر اور کوچ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ اگر آپ بد دلی سے کوئی کام کر رہے ہیں تو آج ہی چھوڑ دیں جو وقت، انرجی اور پیسہ ضائع کر رہے ہیں وہ آپ اپنی Value & Interest کی تلاش میں لگا لیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آپ اپنے کامیابی پر خود حیران رہ جائیں گے۔