سٹارٹ اپس کیسے کام کرتے ہیں؟

سونگے لارون (سی ای او)  ایک وکیل اور ڈیو سالونٹ (صدر) بینکر نے جنوری 2015 میں اسکوائر  سیلون سٹارٹ اپ کی بنیاد رکھی۔ ان دونوں کے پاس سیلون کا اپنے بال اور شیو بنوانے کے علاوہ کوئی تجربہ نہ تھا ۔ ان دونوں کی ملاقات نیو یارک میں اپنی  اوائل عمری میں ملے اور جلد ہی دوست بن گئے۔  دونوں ہی 9 ٹو 5 کلچر سے جان چھڑانے کے لیے  کارپوریٹ دنیا سے  کو خیر باد کہ کر کوئی  اپنا سٹارٹ اپ بنانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے وہ کئی مہینوں تک سوچ بچار کرتے رہے۔ آئیڈیاز بنتے اور بگڑتے رہے۔ یہاں میں بتاتا چلوں ہر نیا بزنس کسی گیپ کو پورا کرنے کے لیے ہی مارکیٹ میں آتا ہے ۔ آپ پسند کریں یا نا کریں   بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گیپ بھی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ضرورتیں، خواہشیں اور مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تو   خوشخبری یہ ہے کہ نئے بزنس کو مارکیٹ میں آنے اور چھانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔  اسی طرح  انہوں نے محسوس کیا کہ آپریٹرز ( پروڈکٹس اور سروسز )  اور صارفین دونوں کے لیے حالات کوئی آئیڈیل نہیں ہیں۔ جہاں چلے جائیں  مارکیٹ ، پارک اور ہسپتال تک ہر جگہ لمبی لائینیں اور کیش پے مینٹس جیسے مسائل ہیں۔

یہ گیپ ہر انڈسٹری میں ہی موجود تھا اور ابھی تک چلا آرہا ہے۔ اب انہوں نے کوئی ایک خاص بزنس چننا تھا تو آپ حیران ہی ہو جائیں گے کہ انہوں نے (حجام )نائیوں  کا بزنس چنا ۔ 

اس بلین ڈالر سٹار اپ کی کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ ایک دن یہ دونوں شیو اور کٹنگ کے لیے گئے ۔ وقت کی کمی تھی انکو ایک کارپوریٹ میٹنگ میں جانا تھا۔ جس بھی  قریبی سیلون میں گئے وہاں رش تھا اور کوئی ترتیب بھی نہیں تھی۔ اسکے علاوہ نقد کیش لین دین میں بھی صفائی کا معاملہ درپیش تھا کیونکہ کٹنگ  یا شیو کے بعد انہی ہاتھوں سے کیش پےمنٹ لے کر بقایا دینا انکو عجیب لگتا تھا۔ ہمارے لیے یہ بات ایک معمول ہے لیکن سٹارٹ اپ اسی طرح ہی بنتے ہیں۔  انہوں نے سوچا کیو ں نا ایک ایسی ایپ بنائی جائے جو گاہکوں اور سیلون کو آپس میں جوڑ دے۔ آئیڈیا تو فینسی تھا لیکن اتنی رقم نہیں تھی کہ یہ کوئی ایپ تیار کرواتے۔ یہ مختلف لوگوں کے پاس  فنڈنگ کے لیے گئے لیکن زیادہ تر لوگوں نے انکی بات پر یقین نا کیا ۔ جیسے تیسے کرکے یہ 60000$ فنڈز اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اب دونوں ہی ٹیک انڈسٹری سے بالکل بھی واقف نا تھے۔  انہوں نے جیسے تیسے تقریبا فنڈنگ کا تیسرا حصہ لگا کر Uber for Barbers ایپ تیار کروا لی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ حجام  کو کیسے راضی کریں کہ وہ اس ایپ کے ساتھ کنیکٹ ہوں ۔ انہوں نے جب بات چیت شروع کی تو سب حجام کو عجیب لگا۔ کیونکہ وہ سب اور اپنے سے پہلے والوں کی طرح مدتوں سے راویتی انداز سے مینوئل کام کرتے آرہے تھے تو یہ بات انکو قابل عمل نہ لگی۔ انہوں نے کسی طرح 50  حجام کو ایپ کے ذریعے اپنا سیلون چلانے پر راضی کر لیا۔ کسٹمرز اپنی پسند کے سیلونز میں بکنگ کرنے لگے  اور پے منٹس انکی ایپ کے ذریعے ہونے لگی لیکن  ڈبل بکنگز اور ڈبل پے منٹس کا مسئلہ نے انکی ناک میں دم کر دیا ۔اور انکو یہ پراجیکٹ روکنا پڑ گیا۔ چونکہ یہ ٹیک انڈسٹری سے واقف نا تھے اس لیے انہوں نے اس کام کے لیے ایک نیا پارٹنریاس تبسم  جو کہ ٹیک انڈسٹری کا خاصہ تجربہ رکھتے تھے کو ایپ کو بہتر بنانے کے لیے ساتھ ملا لیا۔ ایپ بہتر ہو گئی لیکن مارکیٹ میں اعتماد بہتر کرنے کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس کام کے لیے دونوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی بچت میں سے نیو یارک کی چیلسی مارکیٹ میں حجام کی دوکان خریدنے کا فیصلہ کیا ۔ با وجود اسکے کہ یہ دونوں حجام کی دوکان چلانے کا کوئی تجربہ ہی نہیں رکھتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ جی ہاں ۔ یہ صرف لوگوں کے مسائل خود جاننا چاہتے تھے۔ یہاں سے انکو اندازہ ہوا کہ بے شمار حجام کے پاس اپنا ذاتی سیلون ہی نہیں اور وہ مزدوری پر کام کرتے ہیں اور اگر انکو کام کرنے کے لیے سامان مہیا کیا جائے تو یہ ایک اچھی چین بن سکتی ہے۔  اس طرح انکا کام چل پڑا۔ اور انہوں نے بکنگ سسٹم 2016میں دوبارہ لانچ کیا۔ اور اس دوران یہ کئی بار ریجیکٹ ہو چکے تھے۔ اب انہوں نے جیسے نا رکنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور سیلون کے سازوسامان کی فراہمی کا کام بھی شروع کر دیا ۔ یہ جیسے ہی انویسٹرز کی نظر میں آئے فنڈنگ ملنا شروع ہوئی تو پھر کمال ہی ہو گیا ۔ ایک ایسا سٹارٹ اپ جو سب کے لیے ناقابل یقین تھا آج 5 قسم کی سروسز اور پروڈکٹس کے سیلون مارکیٹ کو نئی سمت ڈال چکا ہے ۔ وہ آج : (1) بکنگ مینجمنٹ سسٹم، (2) ورک فورس مینجمنٹ سسٹم، (3) کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ (CRM) سسٹم، (4) انوینٹری مینجمنٹ، اور (5) پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم پر مشتمل فنانشل مینیجمینٹ سسٹم فراہم کر رہا ہے   اور اسکی نیٹ ورتھ تقریبا 1 بلین ڈالر ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک بالکل نئی چیز جس کا وجود ہی نہیں تھا وہ کیسے کامیاب ہوئی؟ جواب سادہ سا ہے ، وژن، محنت، لگن اور 10 سالہ صبر اور لرننگ کے بعد یہ سب ممکن ہوا۔ 90 فیصد سٹارٹ اپس کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے پانچویں سال تک ہی تھک جاتے ہیں۔ جبکہ ایک دہائی کی عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ بھی کچھ ایسا کمال کر سکتے ہی۔ بس شرط یہ ہے کہ گیپ تلاش کریں اور بسم اللہ کریں ۔ اللہ برکت دیں گے۔ سٹارٹ اپس کو کیسے کامیاب بناتے ہیں سیکھنے کے لیے ہمارے آن لائن پروگرامز جوائین کریں۔ 03064251172

Leave a Comment