عادتیں آپکی زندگی کاتعین کرتی ہیں۔ آپکی زندگی حقیقت میں آپکی عادتوں کا مجموعہ ہے۔ اگر یہ 8 چیزیں آپکی عادات میں شامل ہیں تو پھر آپ امیر ہونے کا خیال بھی دل سے نکال دیں۔
سوشل میڈیا سکرولنگ
اگر آپکی ہر شام بے مقصد سوشل میڈیا سکرولنگ میں گزرتی ہے اور آپ کو بالکل بھی متا نہیں چلتا کہ کتنا وقت گزر گیا موبائل تب ہی چھوڑتے جب نیند کی وجہ سے آپکے ہاتھ سے گرتا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ وقت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ آپ نے وہ وقت ض ائع کر دیا ہے جس میں آپ کچھ بڑا کر سکتے تھے۔ ابھی بھی آپکے پاس وقت ہے کہ آپ یہ عادت بدلیں اپنے سوشل میڈیا ٹائم کو چیک کریں ۔ اس طرح نا صرف آپکا وقت بچے گا بلکہ انرجی اور سکلز بھی بہتر طریقے سے استعمال ہوں گی۔
نئے دن کا پلان
آپکے آس پاس بے شمار لوگ ایسے ہوں گے جو جیسے سوئے تھے ویسے ہی بغیر پلان کے اگلا دن شروع کرتے ہیں اور پھر شام ہوتی ہے اور رات کو سو جاتے ہی اور پھر زندگی اس شعر کی مانند
صبح ہوتی ہے ، شام ہوتی ہے
بس یونہی زندگی تمام ہوتی ہے
گزرتی چلی جاتی ہے اور وہ روز و شب حالات کا رونا روتے ہیں اور زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں تو یقینا حالات مختلف نہیں ہوں گے۔ حالات بدلنے ہیں تو بھیا سوچ بدلنی پڑے گی میں اسی لیے تو کہتا ہوں ” خیالات بدلنے سے ہی حالات بدلتے ہیں” سو خیالات بدلیے روزانہ کا پلان بنائیے اور عمل کرنے کے بعد خود سے سوال بھی کریں کہ نتیجہ کیا رہا۔ پھر دیکھیں کمال کیا ہوتا ہے۔
سوچ کی طاقت کو فضول سمجھتے ہیں
خود ساختہ سقراطوں ،بقراطوں ،ارسطوؤں اور افلاطونوں سے جہاں بھرا پڑا ہے جو سوچنے سمجھنے کی زحمت گوارہ ہی نہیں کرتے کیونکہ وہ پہلے سے ہی سب کچھ جانتے ہیں بلکہ یہ دنیا انہی کے حساب کتاب کے مطابق چل رہی ہوتی ہے۔ یہ بڑی زحمت اور بے بسی کی حالت ہوتی لیکن جس پر بیت رہی ہوتی وہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے اور مزید بد نصیبی یہ کہ سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتا اور اگر کوئی ازراہ ہمدردی سمجھانے کی کوشش کربھی لے تو کاٹنے کو دوڑتا ہے اسی لیے لوگ اس کو اسکے حال پر چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔ جائزہ لیں کہیں آپ بھی اسی رو میں تو نہیں بہہ رہے۔ اپنی سوچ کو اللہ کی نعمت خاص سمجھ کر استعمال کریں یقین رکھیں سوچ بدلنے سے آپکی زندگی ہی بدل جائے گی۔
بلاوجہ دیر تک جاگنا
۔ پچھلی صدی میں الو کبھی کبھار نظر آتے تھے اور ہم بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے کہ فلاں درخت پر الو رہتا ہے لیکن نظر رات کو آتا ہے ۔ بڑی مشکل سے میں نے زندگی میں کوئی 3 یا 4 مرتبہ الو کسی شاخ پر بیٹھا دیکھا ہے۔ لیکن موبائل کی فراوانی نے تقریبا ہر گھر کے ہر کمرے میں ایک الو بٹھا دیا ہے۔( نا ٹیکنالوجی کا قصور نا ہر گھر کا) بلاوجہ جاگنا فیشن بنتا جا رہا ہے۔ اگر کسی کو رات 10 بجے کال کریں اچھا خاصا مزاق اڑاتے ہیں اور وہ بیچارہ خود کو خواہ مخواہ قصوروار سمجھتے ہوئے وضاحتیں دے رہا ہوتا ہے۔ ممکن ہے آپ بھی اسی تلخ تجربہ سے دو چار مرتبہ گزرے ہوں۔ جبکہ قسور کال کرنے والے کا ہوتا ہے لیکن وہ تو سب کو الو سمجھتا ہے۔ سو ایسے لوگوں کے لیے اگلے دن فریش ہونا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ طبیعیت بوجھل اور پریشان ہونے کی وجہ سے کچھ بھی ٹھیک نہیں کر پاتا تو ایسا شخص دولت مند بننے کا خواب کیسے پورا کر سکتا ہے۔اور کال اٹینڈ نا کرے اگلے دن پوچھنے پر بتائے کہ سو گیا تھا تو ہم اسے پرانے زمانے کا خیال کرتے ہوئے
سٹریس کو ساتھ لے کر سونا
صرف امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں 80 فیصد ورکنگ کلاس سٹریس کا شکار ہے تو ہمارا کیا حال ہوگا آپ خود ہی اندازہ لگائیں۔ اور ہم ایسے کمال کے لوگ ہیں کہ اسی سٹریس کو اپنے لحاف میں ساتھ ہی سلا لیتے ہیں ۔ خود کو لوڈڈ ہی رکھتے ہیں ان لوڈ کرنے کی یا تو فرصت نہیں ہوتی یا شعور نہیں ہوتا۔ سو نا دن کو چین نا رات کو سکون کی نییند تو زندگی میں ترقی ، خوشحالی اور سکون کہاں سے آئے گا۔ خود پر دھیان دیں سٹریس کا بندوبست ورزش، اچھی گپ شپ یا یوگا سے کر کے پھر سوئیں ۔ پھر دیکھیں کمال
خود کو ری چارج کرنے کا الٹا طریقہ
انسان کام کرے تو تھکتا ہی ہے فارغ رہ کر تو ویسے ہی فارغ ہو جاتا ہے کسی کام کا نہیں رہتا اور تھکاوٹ دگنی ہوتی ہے۔ آپ کسی ویلے سے پوچھیں کہ فلاں کام کیوں نہیں کیا تو وہ جواب دے گا کہ ٹائم نہیں ملا ۔ اگر آپ پوچھیں کہ کیا کرتے رہے تو بڑے سکون سے جواب دیں گے کچھ نہیں اور آپکو شرمندہ کردیں گے۔ اسی طرح کام سے تھکنے والے خود کو ری چارج کرنے کے لیےآوٹ سائیڈ ڈائیننگ پر جاتے ہیں اور جنک فوڈ سے خود کو انرجی دے کر ریچارج کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ جلی کٹی موویز یا ڈرامے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی سٹوری اسی طرح کی خجل خواری پر مشتمل ہوتی ہے جس طرح کا زندگی یہ پہلے سے گزار رہے ہوتے ہیں۔ تو آپ ہی بتائیں یہ کیسے ترقی کر پائیں گے۔ کیسے دولت انکا مقدر بنے گی یہ تو صحیح کماےئی غلط جگہ پر خرچ کر رہے ہیں۔
منفی لوگوں کی محفل
ہر شخص کا ایک حلقہ ہوتا ہے جس میں وہ خود کو ہلکا کرتا ہے۔ یہ حلقہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انسان اپنے تعلقات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی اپنے ارد گرد 6 لوگوں کا ایوریج ہوتا ہے۔ اگر اردگرد مثبت لوگ ہوں گے تو آپ بھی ضرور مثبت ہوں گے اگر منفی ہوں گے تو یقینا آپ بھی مختلف نہیں ہوں گے۔ منفی لوگ زندگی میں جو کچھ بھی کرلیں ترقی نہیں کر سکتے خوش اور پر سکون تو رہ ہی نہیں سکتے۔
بغیر کوشش سب اچھا ہو گا
کاہلی انسان کی بڑی دشمن ہے۔ ترقی، کامیابی ، خوشی اور دولت سب چاہتے ہیں لیکن محنت نہیں یہ ایسے ہی ہے ” کہ مرے کوئی اور مگر جنت ہم ہی جائیں”۔ ایسا کیسے ممکن ہے ۔ اسی طرح کچھ بدلنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے زیادہ احمقانہ سوچ کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ہی طرح کے کام بار بار کریں اور مختلف نتائج کی توقع رکھیں یہ اھمقں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ سو حرکت میں ہی برکت ہے۔ جو خواہش رکھتے ہیں اسکے لیے کوشش کریں یقینا حالات بدل جائیں گے۔ میں آپکو یقین دلاتا ہوں آپ جتنی بھی دولت کمانا چاہتے ہیں ایک صفحہ پر لکھ کر رکھ لیں آج سے درست سمت میں درست مائنڈ سیٹ کے ساتھ محنت شروع کردیں آپ حاصل کرلیں گے۔ شرط درست سمت، درست مائنڈ سیٹ اور مسلسل محنت ہے۔
اگر آپ بھی ان 8 مسائل کا شکار ہیں تو آپکو کود پر رحم کرنا چاہئیے اور آج سے ہی خود پر توجہ دینی چاہئیے۔ خود سے کوشش کریں اگر آپ اکیلے خود کو تبدیل نہیں کر پارہے تو آئیں ہمارا 6 ہیلتھ کلب جوائن کریں جس میں پرسنل، پروفیشنل اور فنانشل ڈیویلپمینٹ پر 6 ہیلتھ پر کام کیا جاری ہے۔ آپ بھی جوائین کریں اور اپنی مینٹل، فزیکل، ایموشنل یعنی ریلیشن بلڈنگ، سوشل، فنانشل اور سپری چوئل ہیلتھ کو امپروو کریں۔ رجسٹریشن کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں 03064251172