دنیا بھر میں کام کرنے کے دو مائنڈ سیٹ ہیں۔ ایک مائنڈ سیٹ دولت کے لیے کام کرتا ہے جبکہ دوسرے مائنڈ سیٹ کے لیے دولت کام کرتی ہے۔ جیسا کہ رابرٹ کیوسکی اپنی شہرہ آفاق کتاب ” امیر باپ ، غریب باپ” میں کہتا ہے کہ امیر باپ دولت کو اپنی کام پر لگاتا ہے اور دولت اسکے لیے مزید دولت کماتی ہے جبکہ غریب باپ دولت کے لیے اپنی ساری زندگی گزار دیتا ہے لیکن دولت پھر بھی اس سے کوسوں دور ہی رہتی ہے۔
حضرات اگر آپ دولت مند بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو آپکو 3 کام کرنے پڑیں گے
پیسہ کو آپکے لیے کام کرنا چاہئیے
پیسہ جب ایک بار آپ پر قابو پا لیتا ہے تو آپ پیسے کے غلام بنتے چلے جاتے ہیں اور پھر زندگی کے سارے سکھ آپ سے روٹھ جاتے ہیں اور آپ پیسے کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اتنا تھک جاتے ہیں کہ پیسہ ہونا نہ ہونا ایک برابر ہو جاتا ہے۔ ہمارے ارد گرد دو طرح کے لوگ پریشان ہیں نمبر 1 جن کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ پیسے کے لیے پریشان ہیں اور یہ پریشانی یقینا درست ہے چاہے اسمیں قصوروار وہ خود ہی کیوں نا ہوں۔ دوسرے وہ لوگ جن کے پاس دولت کی کمی نہیں لیکن وہ ہی دولےت انکا چین و سکون برباد کیے ہوئے ہے۔ مثلا لڑائی جھگڑوں کا شکار، غلط راہ روی کا شکر اور دولت سے فائدہ نا اٹھانے والے دولت ہونے کے باوجود پریشان ہیں۔ تو سرپیسے کو مینیج کریں اسے مزید جائز پیسہ کمانے کے لیے استعمال کریں تا کہ آپ اسکے آقا بن سکیں ورنہ یہ آپکو غلام بنا لے گا۔ یاد رکھیں ” پیسہ بہت اچھا غلام اور بہت ہی ظالم آقا ہے”۔ فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہےکہ آپ اونٹ کس کروٹ بٹھاتے ہیں۔
گھر سے پہلے کاروبار بنائیں
گھر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور تقریبا سارے انسان ہی اس بات پر قوی یقین رکھتے ہیں کہ ” گھر چھوٹا ہی سہی پر اپنا ہو”۔ اس سوچ پر بھی دنیا کے لوگ دو طرح سے عمل کرتے ہیں۔ مثال کو طور پر ایک شخص کے پاس جمع پونجی کوئی خاص رقم اکٹھی ہوئی ہے۔ پہلا خیال اسکے ذہن میں تقریبا باقی 95 فیصد لوگوں کی طرح ” اپنا گھر اپنی چھت” کا خیال آئے گا ۔ اسکے ساتھ ساتھ فیملی اور سوسائٹی پریشر بھی یہی ڈیمانڈ کرے گا کہ اب اپنا گھر ہونا چاہئیے اور وہ بادل نخواستہ گھر شروع کردے گا اور جو جمع پونجی ہے وہ بھی لگانے کے بعد مزید قرضہ لے کر گھر مکمل کرے اور باقی زندگی اپنی چھت کا قرض اتارنے میں گزار کر چلا جائے گا۔ لیکن دوسرا شخص جب اسکے پاس پیسہ آئے گا وہ گھر کی بجائے نیا بزنس شروع کرنے کا سوچے گا کیوںکہ اسے پتا ہے بزنس کے چل جانے کے بعد وہ بزنس میں سے ہی ایسے کئی گھر بنا لے گا۔ یہ بزنس مائنڈ سیٹ ہے اور صرف5 فیصد لوگ ہی ایسا کر پاتے ہیں کیونکہ فیملی اور سوشل پریشر ان پر بھی ہوتا ہے لیکن یہ اپنے بزنس مائنڈ سیٹ کی وجہ کام شروع کرتے ہیں اور چند ہی سالوں میں فیملی اور لوگوں کو حیران و پریشان کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اسی بزنس سے انکے پاس گاڑی ، بینک بیلنس اور گھر سب کچھ آجاتا ہے۔
صرف بچت کی بجائے انویسٹمینٹ کریں
کچھ انسان دولت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور پھر ایک وقت کے بعد دولت ان پر بے رحم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جب آپ” دولت کو ان چیزوں کی خریداری پر خرچ کریں گے جن کی آپکو ضرورت نہیں تو وہ دن دور نہیں ہو گا جب آپکو اپنی ضرورت کی چیزیں بھی بیچنی پڑیں گی۔” دوسری طرف زیادہ تر لوگ پیسہ بچانے اور بینک میں جمع کروانے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ لوگ بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں حاصل کر پاتے۔ کامیاب اور دولت مند صرف وہ ہی بنتے ہیں جو بچت کی بجائے انسیسٹمیںت پر توجہ دیتے ہیں۔ انکے پاس جو بھی پیسہ آتا ہے وہ ضروریات زندگی کے بعد سب انویسٹ کر دیتے ہیں اور پھر یہ انویسٹمینٹ انکی ضروریات کو بھی پورا کرتی اور انکو آسائیشیں بھی فراہم کرتی ہے۔
سر آپکو امیر بننے کے لیے سوچ اور اپروچ بدلنی ہو گی ورنہ جتنے مرضی ہاتھ پاؤں مار لیں تھک جائیں گے امیر اور دولت مند ہونے کے خواب ادھورے ہی رہ جائیں گے۔ آج ہی اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کریں اور بزنس مائنڈ سیٹ میں آئیں۔ اگر آپ کوشش کے باوجود بھی بزنس کی طرف قدم نہیں بڑھا پا رہے تو آج ہی ہمارا” بزنس گروتھ کلب ” جوائن کریں۔ انشا ء اللہ آپ ناصرف بزنس شروع کرلیں گے بلکہ بزنس میں کامیابی، گروتھ اور سکون بھی ملے گا۔ رابطہ کے لیے نمبر ڈائل کریں 03064251172